زوال اور اُمید کے درمیان ایک شکستہ آئینے کا احوال· زوال اور اُمید کے درمیان: ایک شکستہ آئینے کا احوالپاپا، ہم ایسے کیوں ہو گئےبچوں کی معصوم آنکھوں میں وہ سوال دیکھا جو کسی عدالت سے کم نہیں تھا ” میں کچھ کہنا چاہتا تھا، کوئی جواب گھڑنا چاہتا تھا، مگر میری زبان نے جواب دے دیا آنکھوں میں آنسو سجا، مگر وہ بھی شرم کے مارے بہنے سے پہلے ہی جم گیا۔ میں ایک بے نام و بے نشان ہجوم کے درمیان کھڑا تھا، مگر میں اتنا تنہا تھا جیسے کسی ویران مسجد میں آخری اذان کی صدا گونج کر ختم ہو گئی ہو۔جب میں نے اپنے ٹوٹے ہوئے وجود میں جھانکا، تو اپنے آپ کو ایک شکستہ آئینے کے سوا کچھ نہ پایا۔ ہر ٹکڑا جدا، ہر شیشہ بکھرا ہوا، مگر ہر ایک پارے پر میرے غرور کے زخم نقش تھے۔مگر اسی زوال نے، اس کرب نے مجھے رشتوں کی اصل پہچان عطا کی۔ میں نے سیکھا کہ دولت تعلقات کو چمکا سکتی ہے، پرانے رشتوں کو جوڑ کر نئی شکل دے سکتی ہے، مگر انہیں سچائی سے نبھا نہیں سکتی۔ جو لوگ میرے سورج کے گرد سیارے بن کر چمکتے تھے، وہی میرے زوال کی تاریکی میں گہنا گئے۔ اور جو لوگ روشنی کے اس جھمیلے میں گم نام تھے، وہی میرے سہارے بن کر آگے آئے۔ جنہیں میں نے کبھی اپنے معیار سے کم تر سمجھا تھا، وہی میرے حوصلے کی مضبوط بنیاد بن گئے۔میں اب بھی ان لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں جنہیں میں نے اپنے عروج کے دنوں میں سہارا دیا تھا۔ مگر اب میری نظر میں بدلے کی آگ نہیں، بلکہ ایک گہری، سمجھ بھری خاموشی ہے۔ شاید وہ بھی وقت کے ہاتھوں ایسے ہی زخم کھا چکے ہیں جیسے میں۔ میرے ہاتھ خالی ہیں،مگر میرا دل اب بھی یقین سے لبریز ہے۔کیونکہ میں ظالم نہیں ہوں،میں نے کبھی کسی کا حق جان بوجھ کر نہیں مارا۔غلطیاں مجھ سے ہوئیں، مگر میں توبہ سے منہ نہیں موڑتااس یقین نے کہ میرا رب دیکھ رہا ہے۔ وہ عادل ہے، مہربان ہے، اور شاید میرا یہ گرنا، میرا یہ ٹوٹنا، درحقیقت اس کی رحمت کی ایک نئی شکل ہے۔شاید یہ ساری آزمائش میرے اندر چھپے ہوئے انسان کو جگانے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ میں اب ایک گناہگار ہوں، یہ مانتا ہوں، مگر مایوس نہیں۔ میں گر چکا ہوں، سہی، مگر میں زندہ ہوں۔ اور شاید زندگی کا اصل مفہوم یہی ہے گرنے کے بعد بھی اٹھ کھڑے ہونا، اور تاریکی کے بیچوں بیچ ایک چراغ روشن رکھنا۔اے میرے ربمیں انا پرست ہوں، گناہ گار ہوں، مگر اب خود سے بے نیاز ہو گیا ہوں۔میری انا کی لاج رکھ۔میرے وقار کو اپنی رضا میں پناہ دے۔ میری اس شکست کو اپنی بے پایاں قدرت کی گواہی بنا دے۔ میں اب دنیا کے کسی خزانے کا طلب گار نہیں۔ بس اتنا کر کہ میرے ہر ٹوٹے ہوئے ٹکڑے میں، میرے ہر بکھرے ہوئے شیشے میں، صرف تیرا ہی عکس باقی رہے۔جو ٹوٹ کر بھی مکمل ہے،کیونکہ اس کے ہر پارے میں اب صرف تیرا ہی جلوہ جھلکتا ہے۔کبھی وقت کی رتیں میرے ہاتھ کی مٹھی میں قید تھیں۔ زندگی ایک طویل، رنگین اور دھنک سا جشن تھی، جس میں ہر پل میری ذات کے گرد رقص کرتا محسوس ہوتا۔ روشنیاں، کامیابیاں اور نعمتیں میرے کارواں کی رونق تھیں۔ میں اپنے مقدر کا خود ساختہ رہنما تھا، مین نے اپنی عطا کو عبادت اور اپنی سخاوت کو نجات کا زینہ سمجھ لیا۔ مگر ایک لمحہ وہ بھی آیا جب میرے دینے والے ہاتھوں میں، انجانے ہی، تکبر کا بھاری کنگن چڑھ گیا، اور میں خوگرِ ستائش ہو کر رہ گیا۔لوگوں نے مجھے کئی کئی خطاب دے ڈالے اور وقت کے ساتھ، میں نے بھی یہی مان لیا کہ میں واقعی کوئی نجات دہندہ ہوں۔ یہی وہ مقام تھا جب میری عظمت کی عمارت کی بنیاد میں زوال کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔ میری آنکھوں کی چمک میں نمائش نے جگہ لے لی، اور میرے لہجے کی نرمی پتھر کی طرح سخت ہوتی چلی گئی۔ میرے اردگرد کے چہرے وہی تھے، مگر اب ان کی مسکراہٹیں مصلحت آمیز تھیں اور ان کی خاموشیوں میں خوف و حسد کی کہانیاں چھپی تھیں۔ میں نے اپنے آپ کو اونچی اونچی فصیلوں کے اندر قید کر لیا فصیلیں جو میرے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی خود پسندی کی تھیں۔ اور جیسے جیسے یہ دیواریں اونچی ہوتی گئیں، ویسے ویسے اندر کا انسان چھوٹا، تنہا اور بے یارومددگار ہوتا چلا گیا۔پھر ایک دن ناگہاں، وقت نے پلٹا کھایا۔شہرت کا ہجوم ایسے بکھرا جیسے طوفان کے آگے بوریا بستر۔ دولت کے انبار راتوں رات مٹی کے ڈھیر میں بدل گئے۔ اور جن ہونٹوں پر کبھی میری تعریف کے گیت تھے، وہاں اب خاموشی کے پھاہے لٹک گئےآج میرے پاس نہ کوئی محل ہے، نہ درباریوں کا ہجوم۔ مگر میرا دامن دو انمول خزانوں سے اب بھی بھرا ہےایک اُمید اور دوسری خودداری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar